مینگلور، 7؍ جنوری (ایس او نیوز) ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ دوستی کے لئے نکلنا مسلم لڑکے کو اس قدر بھاری پڑگیا کہ ایک طرف ہندوتوا وادی غیر اخلاقی پولیس گیری کرنے والے گروپ نے اس کے ساتھ مار پیٹ کی ، دوسری طرف لڑکی کے والد کی شکایت پر پولیس نے لڑکے کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت کیس بھی درج کرلیا۔
یہ معاملہ کرناٹک کے دکشن کنڑا میں مینگلور سے قریب سو کلو میٹر دور ہندووں کی زیارت گاہ کُکے سبرامنیا میں کے ایس آر ٹی سی بس اسٹینڈ کے قریب پیش آیا ۔ مارپیٹ کے تعلق سے ہندوتوا وادیوں کے حملہ کا نشانہ بننے والے سُولیا کے رہائشی نوجوان حافید نے بھی سبرامنیا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہئے جس میں اس نے بتایا ہے کہ 12 افراد کی ایک ٹولی نے اسے بس اسٹینڈ کے پاس سے اُس وقت اغوا کیا جب وہ ایک 17 سالہ غیر مسلم لڑکی کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔ حافید کے مطابق متعلقہ لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی سوشیل میڈیا یعنی انسٹاگرام پر ہوئی تھی ۔بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی کُکے سرامنیا میں اس پی یو سی کی طالبہ کے ساتھ اس نے دو چار مرتبہ ملاقات کی تھی ۔
حملہ کا شکارحافید کا کہنا ہے کہ پہلے دو لوگ اس کے پاس آئے اور اسے جیپ میں بٹھا کر کمار دھارا جنکشن کے پاس ایک پرانی بلڈنگ میں لے گئے اور 12 افراد پر مشتمل ٹولی نے اس کو لاٹھیوں سے خوب پیٹا اور ان میں سے ایک نے چھرا گھونپنے کی کوشش کی ۔ بعض حملہ آوروں کے جسم پر سبرامنیا کے مقامی پی یو کالج کے ٹی شرٹس تھے ۔ لڑکی کے ساتھ دوستی برقرار رکھنے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے حملہ آوروہاں سے چلے گئے ۔
حافید نے اپنے علاج کے لئے اسپتال میں داخل ہونے کے بعد جو شکایت درج کروائی ہے اسے آئی پی سی کی دفعہ 307,323,324,365,143,147 کے تحت سبرامینا پولیس اسٹیشن میں رجسٹر کیا گیا ہے ، جس میں قتل کی کوشش اور اغوا وغیرہ جیسے جرائم شامل ہیں ۔
ادھر دوسری طرف مارپیٹ کی شکایت درج کرنے کے ایک دن بعد غیر مسلم لڑکی کے والد نے حافید کے خلاف پولیس اسٹیشن میں جوابی شکایت درج کروائی ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ حافید نے لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، شکایت میں یہ بھی بتایا ہے کہ جب لڑکی نے حافید کو اپنا فون نمبر دینے سے انکار کیا تو اس نے لڑکی کو دھمکی دی ۔ نابالغہ کے والد کا کہنا ہے کہ جب لڑکی گھر پہنچی تو صدمے کا شکار تھی اس لئے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں بول سکی، جس کی وجہ سے شکایت درج کرنے میں ایک دن تاخیر ہوئی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے حافید پر جنسی ہراسانی کے لئے پوکسو اور آئی پی سی قانون کے تحت کیس درج کیا ہے ۔